محمد افغان این مطلب
جنوری 2026 میں ترکیہ کے عالمی شہرت کے حامل شہر استنبول میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی ‘قالین و فلورنگ نمائش DOMOTEX’ محض ایک تجارتی ایونٹ ثابت نہیں ہوئی، بلکہ یہ افغانستان کی روایتی دست کاری، معاشی خودمختاری اور عالمی شناخت کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ بن کر سامنے آئی ہے۔ اس نمائش میں افغان قالین نے دنیا کے 19 ممالک کے درمیان مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کر کے نہ صرف ایک اعزاز اپنے نام کیا، بلکہ اس صنعت سے وابستہ لاکھوں افراد کے لیے امید اور اعتماد کی ایک نئی فضا بھی قائم کی۔
یہ کامیابی کسی ایک دن یا ایک نمائش کا نتیجہ نہیں، بلکہ اس کے پس منظر میں دہائیوں پر محیط وہ جدوجہد شامل ہے جس میں افغان قالین اپنی شناخت سے محروم ہو کر دوسروں کے نام سے عالمی منڈیوں میں فروخت ہوتا رہا۔ استنبول 2026 کی نمائش نے پہلی مرتبہ اس تاریخی خلا کو نمایاں طور پر پُر ہوتے ہوئے دکھایا۔
استنبول DOMOTEX 2026: افغان قالین کی عالمی سطح پر باضابطہ فتح
8 جنوری 2026 کو شروع ہونے والی DOMOTEX نمائش دو روز تک جاری رہی، جس میں دنیا بھر سے معروف قالین ساز کمپنیاں شریک ہوئیں۔ افغانستان کی جانب سے چھ سے آٹھ مقامی کمپنیوں نے اس نمائش میں شرکت کی اور تقریباً 227 مربع میٹر کے رقبے پر اپنے اسٹالز کے ذریعے ہاتھ سے بنے ہوئے قالین، کلاسیکی ڈیزائن اور ریشمی مصنوعات پیش کیں۔
اس عالمی مقابلے میں افغانستان کی مقامی کمپنی ‘ماندگار کارپٹ’ (Mandegar Carpet) کے تیار کردہ ہاتھ سے بنے قالین کو ”Best Classic Design“ کے زمرے میں پہلی پوزیشن دی گئی ہے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ افغان قالین نے اس سطح پر باقاعدہ طور پر پہلا نمبر حاصل کیا، جسے ‘یونین آف افغان کارپٹ پروڈیوسرز اینڈ ایکسپورٹرز’ نے افغان صنعت کے لیے تاریخی سنگِ میل قرار دیا ہے۔
یہ کامیابی اس لحاظ سے بھی غیر معمولی تھی کہ اس مقابلے میں 19 ممالک کی کمپنیاں شریک تھیں، جن میں ترکیہ، ایران، پاکستان، بھارت اور یورپی ممالک کے بڑے برانڈز شامل تھے۔ افغان قالین کا اس فہرست میں سب سے آگے آنا اس بات کی عملی دلیل بن گیا ہے کہ ‘معیار، ڈیزائن اور دست کاری’ کے اعتبار سے افغان صنعت کسی سے کم نہیں ہے۔
سال 2025 اور 2026 کا تقابلی منظرنامہ:
استنبول میں جنوری 2025 میں بھی ایک بڑی بین الاقوامی قالین نمائش منعقد ہوئی تھی، جس میں افغانستان نے بھرپور شرکت کی۔ اُس وقت افغان کمپنیوں کے لیے ایک وسیع رقبہ مختص کیا گیا، خریداروں نے دل چسپی لی اور کئی تجارتی روابط بھی قائم ہوئے، تاہم اس نمائش میں کسی ملک کو باضابطہ طور پر پہلی پوزیشن دینے کا اعلان نہیں ہوا تھا۔
سال 2025 کی نمائش دراصل افغان قالینوں کی ‘عالمی واپسی’ کا آغاز ثابت ہوئی، جب کہ 2026 کی DOMOTEX نمائش نے اس واپسی کو ‘عالمی اعتراف اور اعزاز’ میں بدل دیا ہے۔ یہی وہ فرق ہے، جس نے سال 2026 کو قالین بافی کی تاریخ میں ایک منفرد مقام عطا کیا ہے۔
عالمی منڈی میں بڑھتی طلب اور نئے کاروباری امکانات:
استنبول میں حاصل ہونے والی اس کامیابی کے بعد افغان قالینوں کے حوالے سے عالمی سطح پر طلب میں اضافے کی رپورٹس سامنے آنا شروع ہو گئی ہیں۔ نمائش کے دوران غیر ملکی خریداروں کی بڑی تعداد نے افغان اسٹالز کا رخ کیا، مختلف کمپنیوں سے ملاقاتیں ہوئیں اور مستقبل کے ممکنہ آرڈرز پر بات چیت ہوئی۔
اگرچہ فوری طور پر حتمی معاہدوں کی تفصیل سامنے نہیں آئی، تاہم صنعت کاروں اور ماہرین کا اتفاق ہے کہ اس اعزاز نے افغان قالینوں کی ‘مارکیٹ ویلیو’ میں واضح اضافہ کیا ہے۔ اس کا براہ راست فائدہ اُن لاکھوں مقامی دست کاروں کو پہنچنے کی توقع ہے، جو اس صنعت سے وابستہ ہیں۔ خصوصاً وہ خواتین، جو گھروں میں قالین بافی کے ذریعے اپنے خاندانوں کا سہارا بنتی ہیں۔
قالین بافی، افغان معیشت کا مضبوط ستون:
قالین بافی کی صنعت افغانستان کے لیے محض ایک ثقافتی ورثہ نہیں، بلکہ اہم معاشی ذریعہ بھی ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق سال 2024 میں افغانستان نے تقریباً 15.2 ملین ڈالر مالیت کے قالین برآمد کیے، جب کہ سال 2025 کے ابتدائی چھ ماہ میں ہی برآمدات 8.7 ملین ڈالر سے تجاوز کر گئیں اور صرف صوبہ ہرات میں سال 2025 کے دوران قالین برآمدات میں 70 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
افغان قالین اس وقت دنیا کے مختلف حصوں؛ پاکستان، بھارت، ایران، جرمنی، نیدرلینڈز، اٹلی، برطانیہ، آسٹریا، امریکا، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، آسٹریلیا اور چین سمیت متعدد ممالک میں فروخت ہو رہے ہیں۔ اندازوں کے مطابق اس صنعت سے ‘تقریباً 12 لاکھ افراد’ کا روزگار وابستہ ہے۔
وہ تاریخی خلا، جو دہائیوں تک افغان معیشت کو نقصان پہنچاتا رہا:
قالین بافی کی صنعت کا سب سے بڑا اور دیرینہ مسئلہ یہ رہا ہے کہ افغانستان میں تیار ہونے والے تقریباً ’95 فیصد قالین’ پاکستان یا ایران جیسے دیگر پڑوسی ممالک کے ذریعے عالمی منڈی میں پہنچتے تھے، جہاں اِنہیں ‘Made In Pakistan’ اور ‘Made In Iran’ جیسے نام سے فروخت کیا جاتا تھا۔ اس عمل میں نہ صرف مالی فائدہ دوسرے ممالک کو منتقل ہو جاتا تھا، بلکہ افغان قالین اپنی اصل شناخت سے بھی محروم رہتا تھا۔
یہی وہ خلا تھا، جس نے افغان صنعت کو دہائیوں تک عالمی سطح پر وہ مقام حاصل کرنے سے روکے رکھا، جس کی وہ حق دار تھی۔ استنبول 2026 میں حاصل ہونے والا اعزاز اس خلا کے بتدریج ختم ہونے کی سب سے واضح علامت بن کر سامنے آیا ہے۔
امارتِ اسلامی کے دور میں پالیسی کی سَمت اور تبدیلی:
سال 2021 کے بعد امارتِ اسلامی کے دور میں قالین بافی کی صنعت کے حوالے سے پالیسی کی سَمت میں ایک نمایاں تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ حکومت نے اس صنعت کو ‘قومی شناخت’ کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے براہ راست برآمدات، برانڈنگ اور پیکیجنگ پر زور دیا ہے۔
اب دستیاب معلومات کے مطابق افغان قالینوں کا تقریباً ’99 فیصد حصہ براہ راست افغانستان کے نام سے برآمد’ ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان سے ہجرت سے واپس آنے والے شہریوں میں قالین بافی کے ماہر کاری گر بڑی تعداد میں دوبارہ افغانستان میں کام کر رہے ہیں، جس سے مقامی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔
استنبول 2026 میں افغان قالین کی جیت نے ثابت کیا ہے کہ جب پروڈکٹ اپنے حقیقی مالک اور اصل شناخت کے ساتھ مارکیٹ میں آتی ہے تو وہ عالمی ایوارڈز بھی جیتتی ہے اور خریداروں سمیت دست کاروں کا اعتماد بھی حاصل کرتی ہے۔
دوسری طرف امارتِ اسلامی کی جانب سے افغان تاجروں کو بین الاقوامی نمائشوں میں شرکت کی سہولیات فراہم کرنا بھی اسی پالیسی کا حصہ ہے، جس کا عملی نتیجہ استنبول 2026 میں دیکھنے کو ملا ہے۔
ماضی اور حال کا تقابلی جائزہ:
اگر سابقہ حکومتوں کے دور سے موازنہ کیا جائے تو یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ پہلے اگرچہ سبسڈیز، ایئر کوریڈورز اور بیرونی امداد دستیاب تھی، مگر کرپٹ نظام اور نااہل حکمرانوں کی وجہ سے افغان قالین کی شناخت اور کریڈٹ زیادہ تر دوسروں کے حصے میں چلا جاتا تھا۔
موجودہ دور میں اگرچہ بین الاقوامی بینکنگ پابندیاں، ویزا مسائل اور لاجسٹک چیلنجز موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود ”میڈ ان افغانستان“ برانڈ کو جو فروغ ملا ہے، وہ ماضی میں نظر نہیں آتا۔
امارتِ اسلامی نے ایک مزید سہولت یہ پیدا کی ہے کہ پہلے تجارتی انحصار صرف ایک راستے پر تھا، لیکن اب وسطی ایشیائی ممالک اور ایران کے راستے براہ راست یورپی اور عالمی منڈیوں تک رسائی کی کوششوں سے یہ انحصار متنوع ہو چکا ہے۔
اسی طرح مقامی صنعت کو فروغ دینے کے لیے پاکستان سے ماہر افغان قالین بافوں کی واپسی نے افغانستان کے اندر ہی اس صنعت کے “کلسٹرز” کو مضبوط کر دیا ہے، جس سے اب کسی دوسرے ملک پر انحصار کی ضرورت کم ہوتی جا رہی ہے۔
ایک صنعت، ایک شناخت، ایک نیا سفر:
استنبول DOMOTEX 2026 میں افغان قالین کی پہلی پوزیشن محض ایک ایوارڈ نہیں، بلکہ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ افغانستان اپنی روایتی صنعتوں کے ذریعے عالمی منڈی میں ایک باوقار مقام حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ کامیابی اس صنعت سے وابستہ کاری گروں، تاجروں اور پالیسی سازوں کے لیے واضح پیغام ہے کہ درست سمت، براہ راست برآمدات اور قومی شناخت کے ساتھ آگے بڑھا جائے تو دہائیوں پرانے نقصانات کو بھی بتدریج فائدے میں بدلا جا سکتا ہے۔
اگر خصوصاً بینکنگ اور سفارتی مسائل جیسے موجود کم و بیش مسائل حل ہو جائیں تو قالین بافی کی یہ صنعت مستقبل میں افغانستان کے لیے زرمبادلہ، روزگار اور عالمی وقار کا ایک اور بھی مضبوط ذریعہ بن سکتی ہے۔