Topic: اورعالم اسلام کےعلماء کرام کوامارت اسلامیہ کاخصوصی مراسلہ
Timeline: 2018-03-22 15:26:19
اورعالم اسلام کےعلماء کرام کوامارت اسلامیہ کاخصوصی مراسلہ
مجاہدین بھائیوں کی طرف سے پوسٹ کیا
بسم الله الرحمن الرحیم
کابل میں دینی علماء کےنام سے منعقدہونےوالی کانفرنس کےمتعلق افغانستان
اورعالم اسلام کےعلماء کرام کوامارت اسلامیہ کاخصوصی مراسلہ
علماء دین ،علماء حق کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا وارث قراردیا ہے ۔ اسلامی معاشرے میں اللہ تعالی نے انہیں بلند مقام ومرتبہ سے نوازا ہے اور ہر ایک کے بہ نسبت ان کی ذمہ داری زیادہ ہے ۔ جس طرح گزشتہ امتوں میں انبیاءعلیہم السلام انسانی معاشرے کی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دیتے اور ہدایت کا مرجع سمجھے جاتے تھے ، خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ ذمہ داری علماء امت کے کندھوں پر آپڑی ۔ اسی لیے تاریخ کے مختلف ادوار میں علماء ،امت کی خوشحالی اور سربلندی کے لیے جہاد، علم، دعوت وارشاد اور سیاست کے میدان میں اگلی صفوں میں رہے اور نہایت مشکل حالات میں اللہ تعالی کی نصرت سے امت کی نجات کاباعث بنے ۔
اس بات کی واضح مثال امارت اسلامیہ افغانستان ہے ۔ جب روس کے خلاف ہمارے چودہ سالہ جہاد کا ثمرہ ضائع ہونے لگاتھا ۔ ہمارے ملک وملت کوشکست وریخت کے خطرات کا سامنا تھا ۔ غیور افغان عوام کی جان و مال اور عزت داو پر لگی ہوئی تھی ۔ عوام فسادات اور تعصب کی آگ میں جھلس رہے تھے ۔ساری دنیا اور ساری انسانیت اس سلگتی آگ سے بے توجہی اختیار کیے ہوئے تھی ۔ یہ افغانستان کے علماء ہی تھے، جنہوں نے شجاعت اور پامردی کی مثال قائم کی اور طلباء علوم دین کی ایک خالص اسلامی تحریک کی قیادت کرتے ہوئے اپنے عوام کو فسادات سے نجات دلائی ۔ نہ صرف اپنے عوام کو فسادات اور بدامنی سے نجات دلائی بلکہ افغانستان کی اسلامی سرزمین پر ایک بارپھر خلافت راشدہ کا نظام نافذ کیا ، اور ایک روشن اور واضح اسلامی نظام عملی طورپر دنیا کو دکھا یا ۔
اسلام کے عالمی دشمنوں نے جب یہ سلسلہ دیکھا تو ان کے دلوں میں ایک بارپھر اسلامی نظام اور مسلمانوں کے خلاف تاریخی دشمنی اور نفرت کا احساس جاگنے لگا ، اورانہوں نے مختلف بہانوں سے افغانستان کے اسلامی حریم پر حملے کا ارادہ کیا ۔
افغانستان پر مغربی کفار کی یلغار کے انتہائی حساس موقع پر ایک بار پھر افغانستان کے ڈیڑھ ہزار جید علماء کرام جمع ہوئے ، اور کئی دنوں کے طویل بحث کے بعد متفقہ طورپر اس نتیجے پر پہنچے کہ افغانستان پر امریکی اوراس کےاتحادیوں کاحملہ خالص ایک ظالمانہ اقدام ہے ۔ جس کےخلاف تمام قرآنی اور نبوی نصوص کی روسے جہاد فرض عین ہوجاتا ہے ۔ اس لیے کہ شرعی نصوص ہمیں اس انداز سے متوجہ کرتے ہیں :
ـــ وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ وَأَخْرِجُوهُم مِّنْ حَيْثُ أَخْرَجُوكُمْ ۚ وَالْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ ۚ وَلَا تُقَاتِلُوهُمْ عِندَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتَّىٰ يُقَاتِلُوكُمْ فِيهِ ۖ فَإِن قَاتَلُوكُمْ فَاقْتُلُوهُمْ ۗ كَذَٰلِكَ جَزَاءُ الْكَافِرِينَ ﴿١٩١﴾ بقره
ـــ أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ( ۳۹)الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِن دِيَارِهِم بِغَيْرِ حَقٍّ إِلَّا أَن يَقُولُوا رَبُّنَا اللَّـهُ ۗ وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّـهِ النَّاسَ بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللَّـهِ كَثِيرًا ۗ وَلَيَنصُرَنَّ اللَّـهُ مَن يَنصُرُهُ ۗ إِنَّ اللَّـهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ ﴿٤٠﴾ سورة الحج ــ
ـــ وَعَنْ أَنَس بن مالک رضی الله عنه، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «جَاهِدُوا الْمُشْرِكِينَ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ وَأَلْسِنَتِكُمْ»
[ رواه ابو داؤد ۳۲/۲ والنسائي ۷/۶ والحاکم ۸۱/۲].
ـــ وفی المبسوط للإمام السرخسي (۲-۱۰): ثم أمر رسول الله صلى الله وسلم بالقتال إذا كانت البداية منهم فقال تعالى
﴿أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا﴾ [البقرة: ۱۹۱] أي: أذن لهم في الدفع وقال تعالى ﴿فَإِنْ قَاتَلُوكُمْ فَاقْتُلُوهُمْ﴾ [البقرة:۱۹۱] وقال تعالى ﴿وَإِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا﴾ [الأنفال: ۶۱] ثم أمر بالبداية بالقتال فقال تعالى ﴿وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لا تَكُونَ فِتْنَةٌ﴾ [البقرة: ۱۹۷] .
کفار کے جابرانہ یلغار سے افغانوں پر بھی شرعی امیر کی موجودگی میں جہاد فرض عین ہوگیا ۔ اسی فرض کی ادائیگی میں گیارہ سال سے ہمارا ملک ہر طرح کی قربانیاں دے رہاہے ۔ علماء ، صالحین، خواتین، بوڑھے، بچےاور عام لوگ شہید ہوگئے ہیں ۔ بے گھر ، مہاجر اور قید وبند میں ڈالے گئے ۔ ہرطرح کی تکالیف کا شکار ہوئے مگر دشمن کے سامنے جھکے نہیں ۔ اللہ کے اس حکم کو بجالانے کے لیے ہر قسم کی زحمتوں پرصبرکرکےجہاد کو مزید مضبوط کررہے ہیں۔ اللہ جل جلالہ کے فضل وکرم سے ان گیارہ سالوں میں ہم نے دشمن کو ہر میدان میں پیچھے دھکیل دیا ہے ۔ ان کی ہر چال کو ناکارہ اور ہر مکروفریب کو ناکام کردیاہے ۔ دشمن نے مسلح جنگ کے ساتھ دوسرے شیطانی دسیسے بھی آزمالیے ۔مصالحتی کمیشن کے نام پر مجاہدین کو ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کرنے ، تعاون کے وعدے اور ڈالروں کی پیشکش، صلح کے لیے ایک اور بڑے کمیشن کی تشکیل اور تمویل، ذرائع ابلاغ کے ذریعے گمراہ کن پروپیگنڈہ ، کئی علماء سوء کے ذریعے جہاد کی مخالفت میں فتاوی کا اجراء ، اربکی [کرائے کے رضاکاروں] کی تشکیل ، عوامی بیداری کے عنوان پر جعلی ڈراموں کی تخلیق ، زور وزر کے ذریعے یہ سب حربے بروئے کار لائے گئے ۔
مگر للہ الحمد ، اللہ تعالی نے مجاہدین کو ان سارے حربوں کے مقابلے میں صبر اور استقامت بخشی اورنوبتی طورپر تھوڑے عرصے ان کی ہر سازش کو ناکام بنادیا ۔ افغانستان میں اندرونی سطح پر تمام کوششیں ناکام ہونےکے بعد اب امریکا چاہتا ہے خطے کی سطح پر کچھ ایسے اقدامات اٹھائے جس کے ذریعےان کےمطابق وہ اپنے چہرے سے سیاہ روئی کا داغ دھوکر شکست کا راستہ روکے۔ اسی لیے وہ چاہتا ہے، عالم اسلام کےبعض ممالک کے علماءکرام پر مشتمل کانفرنس کا انعقاد کرے ۔ یہ کانفرنس اگرچہ بظاہر کابل حکومت کے ارباب اختیار نے بلایا ہے مگر اس کے اصل محرکین امریکی ہی ہیں ۔ وہ چاہتے ہیں گیارہ سالہ جہاد کے بعد افغان جہاد کے متعلق علماء کا نقطہء نظر معلوم کریں ۔ یہ بالکل واضح طورپر ایک شیطانی امریکی دسیسہ ہے ۔ یہ چاہتے ہیں علماء کو اپنے چہروں سے شکست کا داغ دھونے اور مجاہدین کے درمیان شکوک وشبہات پیدا کرنے کے لیے استعمال کریں ۔ تاکہ اس طریقے سے امریکی قبضے کے لیے زمین ہموارہوجائے اور افغانستان ہمیشہ کے لیے امریکا کے ہاتھوں میں گروی رہ جائے ۔
تو امارت اسلامیہ افغانستان دنیا اور خطے بھر کے تمام علماء حقانی سے امید رکھتی ہے کہ وہ اپنی دینی ذمہ داریوں کی رو سے اس دھوکہ آمیز کانفرنس میں شرکت نہیں کریں گے ۔ وہ افغانستان، سعودی عرب، پاکستان ، ہندوستان، دارالعلوم دیوبندیاجامعہ ازہر کے علماء ہوں یا دیگر بڑے مدارس یا ممالک کے ۔ آپ دینی علماء ہیں آپ بخوبی جانتے ہیں اس کانفرنس میں شرکت شکست کھاتے ہوئے امریکہ کے ساتھ تعاون اور اپنے مجاہد بھائیوں ۔ ۔ ۔ ۔ جو درحقیقت آپ ہی کی روحانی اولاد ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ سے بڑی جفا کاری ہوگی ۔امید ہے آپ اپنی دینی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہوتے ہوئے اپنے مجاہد بھائیوں سے تعاون کریں گے جنہوں نے چودہ سو سال بعد آپ کی رہنمائی میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نقش قدم پر قدم رکھا ۔ آپ یقین کریں اگر افغانستان میں ان مجاہدین کی بے دریغ قربانیاں نہ ہوتیں تو آج دنیا کے نقشے میں کئی اسلامی ممالک کے نام شامل نہ ہوتے ۔ کئی اسلامی ممالک عراق کی طرح امریکی یلغار کا شکار ہوچکے ہوتے ۔
یہی مجاہدین ہیں جنہوں نے جہاد کے ذریعے امریکا کو خطے میں مکمل شکست سے دوچار کیا ہے ۔ خطہ پھر سے امن وامان کی طرف لوٹ رہاہے۔ آپ جانتے ہیں امریکہ ہمارے خطے میں طرح طرح کے جرائم کاارتکاب کرتا ہے ۔ ۔لوگوں کو قتل کرتا ہے اور بداخلاقی اور بے راہ روائی کو ترویج دے کر اپنے طویل قیام کے خواب دیکھتا ہے ۔ خدانہ کرے ایسے حالات میں اگر کچھ علماء ان کے فریب میں آگئے۔ ان سے مل کر کانفرنس میں شریک ہوئے اور ان کی دعوت پر لبیک کہا تو بعید نہیں کہ تاریخ ان کے حق میں اپنا فیصلہ صادر کردے ۔ خداتعالی کی بارگاہ میں بھی جواب دہ ہوں گے اور مخلوق کی عدالت میں بھی علماء سوء میں شمار کیے جائیں گے ۔ ہم سمجھتے ہیں آپ اپنی علمی بصیرت سے بھی اس دسیسے کا بائیکاٹ اور مقاطعہ کریں گے لیکن یہ آپ کا ہم پر حق ہے کہ ہم بھی آپ سے اپنا دینی مطالبہ کریں ، تاکہ خدا نخواستہ آپ کفار کے فریب اور دھوکے کا شکار نہ ہوجائیں ۔
اگر کوئی اس نیت سے شرکت کرتا ہے کہ وہاں اجتماع میں حق بات کہوں گا ۔ تو یہ دلیل اس لیے بے جا ہے کہ حق بات اس کانفرنس سے باہر نہیں آئے گی ۔ دنیا والوں تک مغربی انٹیلی جنس کے ذرائع ابلاغ وہی بات پہنچائیں گے جس میں انہیں کا فائدہ ہو۔ اور اس بات کے ساتھ علماءکے نام اور علماء کی تصاویر بار بار دکھائی جائیں گی ۔ اس طریقے سے علماء کرام کو مجاہدین اور تمام سچے مسلمانوں کے ذہنوں میں بے وقار کردیا جائے گا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے ملک میں حالیہ جنگ صرف ایک جنگ نہیں بلکہ مقدس جہاد ہے ۔ جس کا آغاز ڈیڑھ ہزار علماء کے فتوی سے ہواہے اور علماء دین کی نگرانی میں جاری ہے ۔ ہمارے مقابلے میں امریکہ اورعالمی کفر کھڑا ہے ۔ کابل کی بے اختیار حکومت کفار کی قائم کی ہوئی ہے ۔ جو ہمارے لوگوں اور ہمارے ملک کی میزبانی کا حق نہیں رکھتی۔ کابل حکومت ایک قدم بھی امریکا کی اجازت کے بغیر نہیں اٹھاسکتی، اور نہ ہی اسے کوئی آزاد اور مستقل حکومت قرار دیا جاسکتا ہے ۔
ہماری حقانیت اور اللہ تعالی کی نصرت کی ایک بڑی دلیل یہ بھی ہے کہ بہت کم انفرادی قوت اور کمزور وسائل کے ذریعے ہم نے دنیا کے بڑے بڑے فرعونی قوتوں کو اس قدر ذلیل کردیا ہے کہ آج وہ دینی علماء کے سامنے دھوکہ دینے کے لیے سہی مگر منتیں کررہے ہیں اور ساری دنیا میں ان کی حیثیت گر گئی ہے ۔ ان کی معیشت زوال پذیر ہے اور اب دنیا کو ان کے شر سے نجات ملنے والی ہے ۔ آپ کو اس حقیقت کا علم ہے کہ یہاں کوئی عام سی لڑائی نہیں ہورہی بلکہ ایسی شدید جنگ جاری ہے کہ سال 2010ء کونیٹو نے خود اعلان کیا کہ اس سال مجاہدین کی جانب سے 18ہزار حملے ہوچکے ہیں ۔ ہر دن اوسطا 50حملے ہوتے ہیں ۔ سال2011ء میں بھی نیٹو کے اعلان کے مطابق 21ہزار حملے ہوئے ہیں ۔ روزانہ اوسطا 60کے قریب حملے ہوئے ، 2012ء کا سال تو گزشتہ سالوں سے بھی زیادہ خونریز رہا۔
امریکا اور اس کے اتحادی سخت دباو کا شکارہیں ۔ اکثر اتحادی پیچھے ہٹ چکے ہیں اور اپنی افواج کو افغانستان سے نکال چکے ہیں ۔مزید نکلنے کی تیاریوں میں ہیں ۔ یہی دباو ہے جس کے باعث امریکا آپ لوگوں کے سامنے رونے پر مجبور ہوا ہے ۔ اورآپ لوگوں سے نجات کی توقع رکھتاہے ۔ امید ہے آپ حضرات بھی قاتل امریکا کا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو ساری دنیا میں مظلوموں کا خون بہاتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تعاون اور نجات دلانے میں ساتھ نہیں دیں گے۔ آخر میں آپ کی توجہ اس بھاری مسئولیت اور عظیم حیثیت کی جانب مبذول کرانا چاہتے ہیں جس کے وقار کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ اس طرح کے مجالس میں شرکت سے احتراز کیا جائے ۔
ہمارے مقدس جہاد کا ہدف اور ہماری آرزو اعلاء کلمۃ اللہ ہے ۔ اس وقت تک ہمارے عوام اسلحہ نہیں رکھیں گے جب تک انہیں یہ اطمینان نہیں ہوجاتا کہ اب اسلامی حکومت برقرار اور حقیقی اسلامی حکومت کے قیام سے اللہ تعالی کے حدود نافذ ہوگئے ہیں ۔
وماذالک علی اللہ بعزیز
والسلام
امارت اسلامیہ افغانستان
۱۴۳۴/۲/۱۴هق
۱۳۹۱/۱۰/۷هش ــ ۲۰۱۲/۱۲/۲۷م
**{Legacy activities, comments etc counter: 1270; topic series: 1; forum: MediaUrdu; associated: 1- /*}